دیبروگڑھ 31/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی ) بی جے پی اقتدار والی ریاست آسام میں عوام نے شہریت بل کو لے کر بی جے پی لیڈر کی ہی بری طرح پٹائی کرنے کا حیران کرنے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد پولس کے اعلیٰ آفسران کو لیڈر کو عوامی بھیڑ سے بچاتے ہوئے لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
آسام کے ایک انگریزی نیوز پورٹل نے متعلقہ حملہ کرنے والی وڈیو اپنے ویب سائٹ پر پوسٹ کی ہے جس کے ذریعے دیکھا گیا ہے کہ عوام متعلقہ بی جے پی لیڈر پر ٹوٹ پڑتے ہیں، بعد میں جب پولس موقع پر پہنچ کر لیڈر کو بچاتی ہے تو عوام آر ایس ایس گو بیک کے نعرے لگانا شروع کردیتے ہیں۔
تشدد کا شکار ہونے والے بی جے پی لیڈر کی شناخت لکھیشور مورن کی حیثیت سے کی گئی ہے جو تنسکیا کے ضلعی صدر ہیں۔ ذرائع کے مطابق تشدد کا یہ معاملہ آسام کے تنسکیا ضلع میں 30 جنوری کو پیش آیا جب آر ایس ایس سے جڑی تنظیم لوک جاگرن منچ نے یہاں ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب کا موضوع شہریت ترمیم بل تھا بتایا گیا ہے کہ لکھیشور اسی پروگرام میں شرکت کے لیے نکلے تھے جس کے دوران عوام کی ایک بھیڑ نے ان پر حملہ کر دیا۔
مارپیٹ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ کچھ لوگ لکھیشور کی پٹائی کر رہے ہیں اور اس پٹائی کے دوران وہ زمین پر بھی گر جاتے ہیں۔ پولس ذرائع کے مطابق شہریت ترمیم بل پر آر ایس ایس کی ایک معاون تنظیم نے پروگرام منعقد کیا تھا اور اسی میں شریک ہونے کے لیے بی جے پی لیڈر جا رہے تھے جب مظاہرین نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔ جو ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہو رہا ہے اس میں مظاہرین ہاتھ میں ٹائر اور کالے جھنڈے لیے ہیں اور وہ بی جے پی لیڈر پر ’آر ایس ایس سے سانٹھ گانٹھ‘ کرنے کا الزام لگانے کے ساتھ ساتھ چیختے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں۔
تنسکیا کے ایس پی شلادتیہ چیتیا نے اس معاملے میں بتایا کہ ’’ہم نے ’بھارتیہ جنتا یوا مورچہ‘ کی شکایت پر کیس درج کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے میں تین ایف آئی آر درج ہوئے ہیں اور تین لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ ’’گرفتار لوگوں میں سے ایک رانا گوہن ہے جو کہ آل آسام اسٹوڈنٹ یونین (آسو) کا رکن ہے۔ یہی وہ شخص تھا جس نے مورن پر ٹائر سے حملہ کیا‘‘ ایس پی نے لکھیشور کی پٹائی کے بارے میں اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ پٹائی کے دوران ان کا ایک دانت ٹوٹ گیا اور جسم کے کچھ حصوں میں کافی چوٹیں آئی ہیں۔
اس حادثہ کے بعد تلملائے بی جے پی کے ریاستی صدر رنجیت کمار داس نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قصورواروں کو فوراً پکڑا جائے۔ انھوں نے اس واقعہ کو ’غنڈہ گردی‘ بھی قرار دیا اور ساتھ ہی متنبہ کیا کہ بی جے پی کے 29 لاکھ کارکنان نے کافی صبر سے کام لیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھیں بھڑکایا جائے۔ دوسری طرف آسو کے جنرل سکریٹری لورنجیوتی گوگوئی نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ وہ اس طرح کے کسی بھی پرتشدد واقعہ سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔